الٰہی تیری چوکھٹ پر بھکاری بن کے آیا ہوں
اردو
ظاہر کی آنکھ سے نہ تماشا کرے کوئی
ہو دیکھنا تو دیدۂ دل وا کرے کوئی
اڑ بیٹھے کیا سمجھ کر بھلا طور پر کلیم
طاقت ہو دید کی تو تقاضا کرے کوئی
الٰہی تیری چوکھٹ پر بھکاری بن کے آیا ہوں
سراپا فقر ہوں عجز و ندامت ساتھ لایا ہوں
الٰہی تیری چوکھٹ پر بھکاری بن کے آیا ہوں
سراپا فقر ہوں عجز و ندامت ساتھ لایا ہوں
بھکاری وہ کہ جس کے پاس جھولی ہے نہ پیالہ ہے
بھکاری وہ جسے حرص و ہوس نے مار ڈالا ہے
متاعِ دین و دانش نفس کے ہاتھوں سے لٹوا کر
سکونِ قلب کی دولت ہوس کی بھینٹ چڑھوا کر
لٹا کر ساری پونجی غفلت و عِصیاں کی دلدل میں
سہارا لینے آیا ہوں تیرے کعبے کے آنچل میں
گناہوں کی لِپٹ سے کائناتِ قلب افسُردہ
ارادے مضمحل، ہمت شکستہ، حوصلے مُردہ
کہاں سے لاؤں طاقت دل کی سچی ترجمانی کی
کہ کس جنجال میں گزری ہیں گھڑیاں زندگانی کی
خلاصہ یہ کہ بس جل بھن کر اپنی رُو سیاہی سے
سراپا فقر بن کر اپنی حالت کی تباہی سے
تیرے دربار میں لایا ہوں اپنی اب زبوں حالی
تیری چوکھٹ کے لائق ہر عمل سے ہاتھ ہیں خالی
یہ تیرا گھر ہے تیرے مہر کا دربار ہے مولا
سراپا نور ہے، اک محبّتِ انوار ہے مولا
تیری چوکھٹ کے جو آداب ہیں میں ان سے خالی ہوں
نہیں جس کو سلیقہ مانگنے کا وہ سوالی ہوں
زبان غرقِ ندامت دل کی ناقص ترجمانی پر
خدایا رحم میری اس زبانِ عجز زبانی پر
یہ آنکھیں خشک ہیں یا رب اِنہیں رونا نہیں آتا
سلگتے داغ ہیں دل میں جنہیں دھونا نہیں آتا
الٰہی تیری چوکھٹ پر بھکاری بن کے آیا ہوں
سراپا فقر ہوں عجز و ندامت ساتھ لایا ہوں
موسیقا
ادعم محطة الأناشيد
نحن لسنا مدعومين من مستثمرين كبار - فقط عدد قليل من المطورين المستقلين الذين أرادوا إنشاء منصة نظيفة وخالية من الإعلانات للأناشيد. تبرعاتك تساعد في إبقاء هذا المشروع حياً ونموه.