Nasheed Stationمحطة الأناشيد
home الصفحة الرئيسية
record_voice_over المنشدين
backup تحميل
محطة نشيد متاحة أيضًا على نظامي iOS, Android
App Store IconPlay Store Icon
سياسة الخصوصية | شروط الاستخدام
v2.4.2
search

جو آپ دل میں مکیں ہوں

خالد اقبال تائب
play_arrow10 استماعaccess_timeمنذ 26 أيام

اردو

جو آپ دل میں مکیں ہوں

دل میں مکیں ہوں

یعنی دل آپ کا مکان بن جائے

جو آپ دل میں مکیں ہوں

تو ایک نظر نہ اٹھے گی

اس کی مشق کر لیں کبھی

اگر اللہ تعالیٰ جس کے دل میں ہوتے ہیں

وہ غیروں کو خاطر میں نہیں لاتا

جو خالقِ خورشید

جو خالقِ خورشید سے نظریں ملائے رکھتا ہے

وہ جگنوؤں کو کیا دیکھے گا

ارے جگنوؤں کا وجود کالعدم ہو جائے گا

جگنو نظر ہی نہیں آئے گا اسے

جو آپ دل میں مکیں ہوں

تو ایک نظر نہ اٹھے گی

جو آپ دل میں

مکیں ہوں

تو ایک نظر نہ اٹھے گی

ہزار بیٹھے حسین ہوں

تو ایک نظر نہ اٹھے گی

ہزار بیٹھے حسین ہوں

تو ایک نظر نہ اٹھے گی

ارے وہاں تو ایک میں ہی نظر اٹھ جاتی ہے

ہزار حسین ہوں

پھر بھی ایک نظر نہیں اٹھے گی

ایک نظر بھی خراب نہیں کرے گا اپنی

کیونکہ وہ اس کو

خالقِ حسن

اور خالقِ حسین

اپنے دل میں رکھتا ہے

کون سا حسین

فرمایا خالقِ صاحب فرماتے ہیں

کہ حسن خود حسین ہوا

تیرے حسین ہونے سے

ارے جو حسن کو بھیگ دینے والا ہے

وہ خود کتنا حسین ہوگا

حضرت مولانا رومی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں

اے دل شکر خوش کر

یہ آنکھ شکر سازد

اے دل! تو بتا مجھے

کہ چینی زیادہ میٹھی ہے

یا چینی کا پیدا کرنے والا زیادہ میٹھا ہے

اور اے دل!

یہ قمر خوش کر

یہ آنکھ قمر سازد

اے دل! یہ بتا

کہ یہ چاند زیادہ خوبصورت ہے

یا یہ چاند کا خالق زیادہ خوبصورت ہے

دل خود فیصلہ کر کے بتائے گا

جو آپ دل میں مکیں ہوں

تو ایک نظر نہ اٹھے گی

ہزار بیٹھے حسین ہوں

ہزار بیٹھے حسین ہوں

تو ایک نظر نہ اٹھے گی

ابھی تو آپ

ابھی تو آپ

لبوں پر ہیں

یا خیال میں میرے

ابھی تو آپ

لبوں پر ہیں

یا خیال میں میرے

جو دل میں گوشہ نشیں ہوں

تو ایک نظر نہ اٹھے گی

جو دل میں گوشہ نشیں ہوں

تو ایک نظر نہ اٹھے گی

ہزار بیٹھے حسین ہوں

تو ایک نظر نہ اٹھے گی

بتوں کے زیرِ اثر ہیں

ہماری بے باک نگاہیں

بتوں جمع ہے بت کی

مطلب حسینہ

اس سے مراد حسین عورتیں

یا امرد لڑکے

بتوں کے زیرِ اثر ہیں

ہماری بے باک نگاہیں

خدا کے زیرِ نگیں ہوں

تو ایک نظر نہ اٹھے گی

خدا کے زیرِ نگیں ہوں

تو ایک نظر نہ اٹھے گی

بتوں کے زیرِ اثر ہیں

ہماری بے باک نگاہیں

خدا کے زیرِ نگیں ہوں

تو ایک نظر نہ اٹھے گی

ہزار بیٹھے حسین ہوں

تو ایک نظر نہ اٹھے گی

عذاب دوری حق کا جو سہ رہے ہیں دل و جاں

عذاب سہ رہے ہیں عذاب

دوری حق کا عذاب ہے

عذاب بھی ہمیں محسوس نہیں ہوتا

ایسے بے حس ہو گئے

کہ اللہ تعالیٰ سے دوری کا عذاب محسوس نہیں ہوتا

ایک شاعر ہیں بھی زندہ ہیں اللہ والے ہیں

حضرت قاری فتح محمد صاحب کے

بھائی کے خلیفہ ہیں کراچی میں

حضرت مولانا نثار احمد فتحی صاحب

دامت برکاتہم

بہت اچھے شاعر بھی ہیں

کہتے ہیں کہ

قریب

قریب

مجھ پہ کرم کر

بڑے عذاب میں ہوں

قریب

مجھ پہ کرم کر

بڑے عذاب میں ہوں

میں تیرے سامنے بیٹھا ہوں اور حجاب میں ہوں

قریب

مجھ پہ کرم کر

بڑے عذاب میں ہوں

میں تیرے سامنے

بیٹھا ہوں اور حجاب میں

یہ بے حسی ہے

عذاب دوری حق کا

جو سہ رہے ہیں دل و جاں

وہ جانِ جاں کے قریب ہوں

تو ایک نظر نہ اٹھے

وہ جانِ جاں کے قریب ہوں

تو ایک نظر نہ اٹھے گی

ہزار بیٹھے حسین ہوں

تو ایک نظر نہ اٹھے گی

جو عشق و فسق

عشق و فسق دو الگ الگ چیزیں ہیں

ہم فسق کو عشق سمجھتے ہیں

غیر محرم سے عشق عشق نہیں ہے

فسق ہے

فسق میں یعنی کھلا ہوا گناہ

بہت بڑا گناہ

تو میں نے عرض کیا کہ

جو عشق و فسق میں

رکھتی ہوں

کچھ تمیز

وہ نظریں

عشق و فسق میں تمیز رکھتی ہوں

وہ نظریں

جو عشق و فسق میں

رکھتی ہوں

کچھ تمیز

وہ نظریں

قدم قدم پہ

امین ہوں

تو ایک نظر نہ اٹھے گی

قدم قدم پہ

امین ہوں

تو ایک نظر نہ اٹھے گی

ہماری نظریں بھی امین ہونی چاہیئیں

یہ اللہ تعالیٰ نے دی ہے

نظر ہمیں اللہ تعالیٰ نے دی ہے

اگر ہم اللہ تعالیٰ کے مرضی کے مطابق

اس کا استعمال نہیں کریں گے

تو ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ

یہ کلیہ تو نہیں ہے

لیکن ایسا ہو بھی سکتا ہے

وعید بھی نہیں

کیونکہ جو نعمت دے سکتا ہے وہ لے بھی سکتا ہے

جو نعمت دے سکتا ہے وہ لے بھی سکتا ہے

یہ اللہ تعالیٰ کا حلم ہے

اللہ تعالیٰ کی برداشت ہے

اس لیے فرمایا کہ حلیم کے غضب سے

حلیم کے غضب سے بچو

حلیم کے غضب سے بچو

جب تک وہ حلم پہ رہتا ہے

تو حلم پہ رہتا ہے

لیکن جب حلیم

حلیم بدلہ لینے پہ آتا ہے

پھر اس سے بڑا بدلہ لینے والا بھی کوئی نہیں

حلیم کے غضب سے بچو

ہزار بیٹھے حسین ہوں

تو ایک نظر نہ اٹھے گی

اور دیکھیں مقطع تک پہنچا ہوں

نظر اٹھے نہ بھلا کیوں

کہ ہم حلیف ہیں تائب

حلیف بنے ساتھی، ساتھ دینے والا

نظر اٹھے نہ بھلا کیوں

کہ ہم حلیف ہیں تائب

حلیف نفسِ لعیں ہوں

تو ایک نظر نہ اٹھے

حلیف نفسِ لعیں ہوں

تو ایک نظر نہ اٹھے

نفس کا حلیف بننا پڑے گا

ابھی تو نفس کے دوست بنے ہوئے ہیں

حالانکہ نفس دشمن ہے

نفس دشمن ہے

دشمن کو تو ناشات کرنا چاہیے

نفس دشمن ہے

ناشات کرنا چاہیے

نظر اٹھے نہ بھلا کیوں

کہ ہم حلیف ہیں تائب

حلیف نفس لائی ہوں

تو ایک نظر نہ اٹھے گی

ہزار بیٹھے ہسی ہوں

تو ایک نظر نہ اٹھے گی

تو ایک نظر نہ اٹھے گی

favorite

ادعم محطة الأناشيد

نحن لسنا مدعومين من مستثمرين كبار - فقط عدد قليل من المطورين المستقلين الذين أرادوا إنشاء منصة نظيفة وخالية من الإعلانات للأناشيد. تبرعاتك تساعد في إبقاء هذا المشروع حياً ونموه.

  • جو آپ دل میں مکیں ہوں
  • خالد اقبال تائب
  • المنشدين
  • الصفحة الرئيسية
متاح أيضًا بـ
English • বাংলা • اردو • Türkçe