Nasheed Stationمحطة الأناشيد
home الصفحة الرئيسية
record_voice_over المنشدين
backup تحميل
محطة نشيد متاحة أيضًا على نظامي iOS, Android
App Store IconPlay Store Icon
سياسة الخصوصية | شروط الاستخدام
v2.4.2
search

فاصلوں کو تکلف

مدثر عبدالله
play_arrow18 استماعaccess_timeمنذ شهر واحد

اردو

فاصلوں کو تکلف ہے ہم سے

اگر ہم بھی بے بس نہیں، بے سہارا نہیں

خود اُنہی کو پُکاریں گے

ہم دُور سے راستے میں

اگر پاؤں تھک جائیں گے

ہم مدینے میں تنہا نکل جائیں گے

اور گلیوں میں قصداً بھٹک جائیں گے

ہم وہاں جا کے واپس نہیں آئیں گے

ڈھونڈتے ڈھونڈتے لوگ تھک جائیں گے

جیسے ہی سبز گنبد نظر آئے گا

بندگی کا قرینہ بدل جائے گا

سر جھکانے کی فُرصت ملے گی

کسے خود ہی پلکوں سے سجدے ٹپک جائیں گے

فاصلوں کو تکلف ہے ہم سے

اگر ہم بھی بے بس نہیں

بے سہارا نہیں

خود اُنہی

کو پکاریں گے

ہم دُور سے راستے میں

اگر پاؤں تھک جائیں گے

نامِ آقا جہاں بھی لیا جائے گا

ذکر اُن کا جہاں بھی کیا جائے گا

نُور ہی نُور

سینوں میں بھر جائے گا

ساری محفل میں جلوے لپک جائیں گے

اے مدینے کے زائر خدا کے لیے

داستانِ سفر مجھ کو یوں مت سُنا

بات بڑھ جائے گی، دل تڑپ

جائے گا، میرے محتاط آنسو چھلک جائیں گے

اُن کی چشمِ کرم کو ہے اس کی خبر

کس مُسافر کو ہے کتنا شوقِ سفر

ہم کو اقبال جب بھی اجازت مِلی

ہم بھی آقا کے دربار تک جائیں گے

فاصلوں کو تکلف ہے ہم سے

اگر ہم بھی بے بس نہیں

بے سہارا نہیں

خود اُنہی کو پکاریں گے

ہم دُور سے راستے میں

اگر پاؤں تھک جائیں گے

اگر پاؤں تھک جائیں گے

اگر پاؤں تھک جائیں گے

favorite

ادعم محطة الأناشيد

نحن لسنا مدعومين من مستثمرين كبار - فقط عدد قليل من المطورين المستقلين الذين أرادوا إنشاء منصة نظيفة وخالية من الإعلانات للأناشيد. تبرعاتك تساعد في إبقاء هذا المشروع حياً ونموه.

  • فاصلوں کو تکلف
  • مدثر عبدالله
  • المنشدين
  • الصفحة الرئيسية
متاح أيضًا بـ
English • বাংলা • اردو • Türkçe