Nasheed Stationمحطة الأناشيد
home الصفحة الرئيسية
record_voice_over المنشدين
backup تحميل
محطة نشيد متاحة أيضًا على نظامي iOS, Android
App Store IconPlay Store Icon
سياسة الخصوصية | شروط الاستخدام
v2.4.2
search

لائیں گے اہلِ عقل کہاں سے نصابِ دل

خالد اقبال تائب
play_arrow11 استماعaccess_timeمنذ 26 أيام

اردو

لائیں گے اہلِ عقل کہاں سے نصابِ دل

ہم نے تو اہلِ دل سے پڑھی ہے کتابِ دل

ہم نے تو اہلِ دل سے پڑھی ہے کتابِ دل

لائیں گے اہلِ عقل کہاں سے نصابِ دل

لائیں گے اہلِ عقل کہاں سے نصابِ دل

ہم نے تو اہلِ دل سے پڑھی ہے کتابِ دل

ہم نے تو اہلِ دل سے پڑھی ہے کتابِ دل

اُن کو پسند عقل ہے، ہم کو پسند عشق

اُن کو پسند عقل ہے، ہم کو پسند عشق

ایک انتخابِ ذہن ہے، ایک انتخابِ دل

اُن کو پسند عقل ہے، ہم کو پسند عشق

اُن کو پسند عقل ہے، ہم کو پسند عشق

ایک انتخابِ ذہن ہے، ایک انتخابِ دل

ایک انتخابِ ذہن ہے، ایک انتخابِ ذہن ہے، ایک انتخابِ ذہن

محض کتابوں سے، مطالعے سے، مجاہدات سے

وہ حاصل کرنا چاہتے ہیں

تو وہ نصاب جو محبت کا ہے

وہ انھیں کہاں سے حاصل ہوگا؟

جبکہ ان کو دردِ دلّی

کسی اللہ والے سے حاصل نہیں ہوا

لائیں گے اہلِ عقل کہاں سے نصابِ دل

ہم نے تو اہلِ دل سے پڑھی ہے کتابِ دل

ہم نے تو اہلِ دل سے پڑھی ہے

وہ مزہ ہم چکھ چکے ہیں

جو دردِ دل کی کتاب

اور دردِ دل کی باتیں سننے سے

اور کے ارشادات سننے سے پیدا ہوتا ہے

وہ دردِ دل جو ہم نے سنا ہے

تو اہلِ عقل کی باتیں ہمیں کہاں بھاتی ہیں

اور دوسرا شعر بھی اسی کی تشریح ہے

کہ اُن کو پسند عقل ہے

اُنھیں تو اپنی کتابوں کے مطالعے پر

اس پر عزم ہے کہ ہم اللہ کی محبت حاصل کر لیں گے

تو اس میں وہ ناکام رہتے ہیں

تو اس میں وہ ناکام رہتے ہیں

وہ کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی

تو ایک انتخابِ ذہن ہے

وہ ذہن کا ایک انتخاب

ذہن کی اختراع

ذہن کا انتخاب ہے

اور یہ دل کا انتخاب ہے

اللہ کے

عشق جو ہے یہ دل کا انتخاب ہے

عقل جو ہے وہ ذہن کا انتخاب ہے

ماشاءاللہ

اُن کو پسند عقل ہے

ہم کو پسند

ہے

ایک انتخابِ ذہن ہے

ایک انتخابِ دل

ایک انتخابِ ذہن ہے

ایک انتخابِ دل

جو آگے

جو آگے یہاں

تو کہیں

دل نہیں لگا

جو آگے

یہاں

تو کہیں

دل نہیں لگا

ایسا ہوا ہے

نشر

یہاں سے خطاب

دل

ایسا ہوا

ہے نشر

یہاں سے خطابِ دل

یہاں سے خطابِ دل

جو آگئے یہاں تو

کہیں دل نہیں لگا

جو آگئے یہاں تو کہیں دل نہیں لگا

ایسا ہوا ہے نشر

یہاں سے خطابِ دل

ایسا ہوا ہے نشر یہاں سے خطابِ دل

بے تابیوں نے چین سے رہنا سکھا دیا

بے تابیوں نے چین سے رہنا سکھا دیا

رکھتا ہے مجھ کو مست میرا اضطرابِ دل

رکھتا ہے مجھ کو مست میرا اضطرابِ دل

بے تابیوں نے چین سے رہنا سکھا دیا

رکھتا ہے مجھ کو مست میرا اضطرابِ دل

جو بے چینیاں برداشت کر لے

تو اُس چین سے رہنا آ جاتا ہے

بے تابی تھوڑی دیر کی ہوتی ہے

اور یہ جو

جو اضطراب پیدا ہوتا ہے

اس سے جو بے چینی پیدا ہوتی ہے

یہی مست رکھتا ہے

اگر اس کو

اس کو اپنے

اضطراب پیدا نہ ہونے دے

بے چینی کو پورا کر لے

تو پھر یہ اضطرابِ دل

یہ حاصل نہیں ہوتا

پھر اللہ تعالیٰ کی محبت میں وہ مست نہیں رہتا

یہی اضطراب مست رکھتا ہے

اور جو پہلا شعر ہے غزل کا

کہ ایسا ہوا ہے

جو آگئے یہاں

تو کہیں دل نہیں لگا

جس کو دیکھ لیا حضرت نے ایک دفعہ

پھر کسی کا دل

پھر کہیں دل لگتا ہی نہیں تھا

ایسی سیری ہوتی تھی

کہ کہیں کسی اور جگہ وہ سیری ملتی ہی نہیں تھی

کیونکہ

اللہ کی محبت کی

ایسی تیز شراب

حضرت والا ہی کے پاس تھی

اس لیے وہ پھر کہیں دل نہیں لگتا تھا

جس نے وہ والی شراب پی لی

پھر اُس کا دل کہاں لگتا تھا؟

اللہ کی محبت کی تیز والی شراب

ماشاءاللہ

حضرت والا کے کلام میں بہت بہترین شعر ہیں

یاد آگیا جب

قائد صاحب پڑھتے تھے

وہ زمانہ یاد آ جاتا ہے

جو آگئے یہاں

تو کہیں دل نہیں لگا

ایسا ہوا ہے نشر

یہاں سے خطابِ دل

ایسا ہوا ہے نشر

یہاں سے خطابِ دل

خطاب پہنچ گیا

حضرت والا کا

اس چھوٹے سے حجرے سے

سارے عالم میں

نور پھیل گیا، خطاب پہنچ گیا

ایک شخص نے کہا کہ یہ

جو باہر کے ملک سے آیا تھا

امریکہ سے

کہ اچھا یہ اتنا چھوٹا سا حجرہ ہے

اور یہاں سے

سارے عالم میں حضرت کا

Segment 135 (551.3

حافظ جاہر رحمان صاحب نے کہا

کہ حجرے سے تھوڑی رشل ہوتا ہے

تو حضرت شیخ کا قلب

جو ہے اس سے نشر ہوتا ہے

وہ

وہ نور

تو کہیں بھی نہیں سما سکتا

کیونکہ اللہ کا نور ہے

سارے عالم کو روشن کر دیا

حضرت کے درجات

سارتا فسارتا متزائد

متسارتا قیامت

تک برند کرتا رہے ہیں

جنت الفردوس میں

قیامت تک حضرت کے

درجات کو اللہ برند کرتا رہے ہیں

کیونکہ لا محدود راستہ ہے

اللہ کا

وہ لا محدود ہے

جنت بھی لا محدود ہے

تو اس کے درجات بھی لا محدود ہیں

میں جو دعا کرتا تھا

تو مجھے خیال ہوتا تھا

کہ

کرسی لے دیا کرو

تو

محسوس ہوتا تھا

کہ پتہ نہیں

میں یہ دعا صحیح کر رہا ہوں کی نہیں

دل میں ایسا ہی آیا

کہ دعا کر دیتا تھا

تو پھر حضرت کا اواز جو لکھ رہا ہوں

تو اس میں بھی یہ آیا

جو دوسرا آواز لکھ رہا ہوں

اس میں حضرت مولانا نے فرما ہے

کہ اللہ جنت میں میرے شیخ کے

درجات کو درجات درجات

پر درجات برند کرتا رہا ہے

ہمیشہ

تو مجھے بہت ہی خوشی ہوئی تھی

پڑھئیے دعا صحیح

لائیں گے اہل اقل

کہاں سے نصاب دل

ہم نے تو

اہل دل سے

پڑھی ہے کتاب دل

بے تابیوں نے

چین سے

رہنا

سکھا دیا

بے تابیوں نے

چین سے

رہنا

سکھا دیا

رکھتا

ہے مجھ کو

مست میرا

اذ تیرا

بے دل

رکھتا

ہے مجھ کو

مست میرا

اذ تیرا

بے دل

شاعر جلا بنا ہوں

میں

مرشد کے فیض

سے

شاعر

جلا بنا ہوں

میں

مرشد کے فیض

سے

کرتا ہوں پیش

تشت غزل میں

کباب دل

کرتا ہوں پیش

تشت غزل میں

کباب دل

شاعر جلا بنا ہوں

میں

مرشد کے فیض

سے

شاعر جلا بنا ہوں میں

مرشد کے فیض سے

شاعر جلا بنا ہوں میں

مرشد کے فیض سے

شاعر جلا بنا ہوں میں

مرشد کے فیض سے

کرتا ہوں پیش تشت غزل میں کباب دل

کرتا ہوں پیش تشت غزل میں کباب دل

کرتا ہوں پیش تشت غزل میں کباب دل

کرتا ہوں پیش تشت غزل میں کباب دل

کرتا ہوں پیش تشت غزل میں کباب دل

کرتا ہوں پیش تشت غزل میں کباب دل

کرتا ہوں پیش تشتے غزل میں کباب دی

شیخ نے جلنا بھلنا سکھا دیا کہ

اللہ کی محبت میں کیسے تڑپا جاتا ہے

اور اس میں کیا لذت ہے

گناہوں سے بجنے کا غم اٹھانے میں کیا لذت ہے

مگر اس سے دل جل بن جاتا ہے

فہشات کو جلانے میں

تو فرماتے ہیں کہ

تشتے غزل میں غزل کے تشت میں

میں کباب شیر نہیں ہیں

بلکہ اپنے دل کا جلا بھلا کباب پیش کرتا ہوں

شیخ کے فیض سے

ماشاءاللہ

شائر جلا بھلا ہوں

میں مرشد کے فیض سے

کرتا ہوں پیش تشتے

غزل میں کباب دل

تشت معنی ہے ٹھے ٹھے جسے آپ کہتے ہیں

تشتے غزل میں

کرتا ہوں پیش تشتے غزل میں کباب دل

مقتہ ہے آخری شیر

کتنا وہ اپنے دل کا ہے

کتنا خدا کا ہے

کتنا وہ اپنے دل کا ہے

کتنا خدا کا ہے

دل دل میں کرتا رہتا ہے

تائب حساب دل

دل دل میں کرتا رہتا ہے

تائب حساب دل

کتنا وہ اپنے دل کا ہے

کتنا وہ اپنے دل کا ہے

کتنا خدا کا ہے

کتنا وہ اپنے دل کا ہے

کتنا خدا کا ہے

دل دل میں کرتا رہتا ہے

تائب حساب دل

صالح صالح کہ یہی چاہیے

کہ وہ دل دل میں

اندر ہی رحمی تراش و خلاش

تا دنے آخر دنے فارغ مباش

ہر روت اپنی دل میں تراش خراش

پہ لگا رہے کہ کتنا میں

اللہ کا ہوں کتنا اللہ کی فرما

برزاری کرتا ہوں کتنا

نافرمانی کرتا ہوں میرے دل

کے ظاہر کو اور باطن کا

جائزہ لیتا رہے

کہ کونسی بات میری

ایسی ہے جو اللہ کے

مرضی کے مطابق ہے اور کونسی

مرضی کے مطابق نہیں ہے

تو ایسا تارک کامیاب ہو جائتا ہے

اس کو

اللہ تعالیٰ کا قرب اور

اس کو نسبت میں اللہ کی آخری

منزل تک پہنچ جاتا ہے

کیونکہ وہ اس کی اصلاح کرتا رہتا ہے

اپنے شیخ سے اصلاح کراتا رہتا ہے

تائب صاحب و اصر ہو وارث

اللہ دیتا ہے تائب و ناصر

و اصر ہو

ہے

اس کی طرز بھی بہت

عجیب و غریب تھی

اشار بھی عجیب و غریب

طرز بھی اس کی ایسی تھی

جیسے کہ شہنائی ہو جائے

جائے شہنائی

وہ ان کے گلے میں ہیں

ماشاءاللہ

ماشاءاللہ

ایک سمت ہے

لالے کے طرف

رشکِ قمر ہے

ایک سمت ہے

لالے کے طرف

رشکِ قمر ہے

ایک سمت ہے

لالے کے طرف

رشکِ قمر ہے

اے دلیے

بتا اب

تو ادھر ہے

کہ ادھر ہے

اے دلیے

بتا اب

تو ادھر ہے

کہ ادھر ہے

ایک سمت ہے

لالے کے طرف

رشکِ قمر ہے

ایک سمت ہے

لالے کے طرف

رشکِ قمر ہے

اے دلیے

بتا اب

تو ادھر ہے

کہ ادھر ہے

اے دل یہ بتا اب تُو اُدھر ہے کہ اِدھر ہے

زخمِ غمِ مولا کی قسط پوچھ رہی ہے

زخمِ غمِ مولا کی قسط پوچھ رہی ہے

دربِ غمِ لیلہ تُو بتا آج کی بھر ہے

دربِ غمِ لیلہ تُو بتا آج کی بھر ہے

زخمِ غمِ مولا کی قسط پوچھ رہی ہے

زخمِ غمِ مولا کی قسط پوچھ رہی ہے

دربِ غمِ لیلہ تُو بتا آج کی بھر ہے

دربِ غمِ لیلہ تُو بتا آج کی بھر ہے

اے جامعہِ غلِ عابر

اے جامعہِ غلِ عابر

اے جامعہِ غلِ عابر

اے حُسنِ تکلم

اے جامعہِ غلِ عابر

اے حُسنِ تکلم

تُو ہے تُو یہ ناصر ہے

یہ طائب ہے اثر ہے

تُو ہے تُو یہ ناصر ہے

یہ طائب ہے اثر ہے

اے جامعہِ غلِ عابر

اے حُسنِ تکلم

اے جامعہِ غلِ عابر

اے حُسنِ تکلم

تُو ہے تُو یہ ناصر ہے

یہ طائب ہے اثر ہے

تُو ہے تُو یہ ناصر ہے

یہ طائب ہے اثر ہے

ماشاءاللہ ماشاءاللہ

عفی مرحیم کشمنی بھی رہوں گے

عفی مرحیم کشمنی بھی رہوں گے

اب وقت کم رہ گیا

اب وقت کم رہ گیا

اللہ بھائی

ماشاءاللہ بس طلح صاحب بس بشoya

میرے دل

میرے دل ناغمے کو اوپس دا دیتا ہے

آپ کو یہ آش هو

اور یہ طلعن♥

اور یہ طلعن♥

شکریہ

favorite

ادعم محطة الأناشيد

نحن لسنا مدعومين من مستثمرين كبار - فقط عدد قليل من المطورين المستقلين الذين أرادوا إنشاء منصة نظيفة وخالية من الإعلانات للأناشيد. تبرعاتك تساعد في إبقاء هذا المشروع حياً ونموه.

  • لائیں گے اہلِ عقل کہاں سے نصابِ دل
  • خالد اقبال تائب
  • المنشدين
  • الصفحة الرئيسية
متاح أيضًا بـ
English • বাংলা • اردو • Türkçe