کملی والے
اردو
نہ میں اعجمی نہ ہندی، نہ عراقی و حجازی
کہ خودی سے میں نے سیکھی دو جہاں سے بے نیازی
تو مری نظر میں کافر، میں تری نظر میں کافر
ترا دِیں نفس شماری، مرا دِیں نفس گدازی
تو عالم تمہارا ہوا کملی والے
کہ تم ہو حبیبِ خدا کملی والے
تو عالم تمہارا ہوا کملی والے
کہ تم ہو حبیبِ خدا کملی والے
تمہاری کتاب اور دِیں آخری ہے
کہ ہو خاتم الانبیاء کملی والے
تو عالم تمہارا ہوا کملی والے
کہ تم ہو حبیبِ خدا کملی والے
بنائے گئے وہ رفیع المراتب
قدوم سے ہیں یہ عَرش و سَمَا ہیں
اگر وہ نہ آتے تو کچھ بھی نہ ہوتا
وجودِ دو عالَم وہی مُرتَضٰی ہیں
جب جہاں میں تمہارے قَدَم پڑ گئے
تو بَرَکَت کا دَر کُھل گیا کملی والے
تو عالم تمہارا ہوا کملی والے
کہ تم ہو حبیبِ خدا کملی والے
تو عالم تمہارا ہوا کملی والے
کہ تم ہو حبیبِ خدا کملی والے
اِدھر فَرش نازاں، اُدھر عَرش شاداں
کہ مِعرَاج میں اَفضَلُ الاَنبِیاء ہیں
فِرِشتے کھڑے ہَر طَرَف صَف بَصَف ہیں
مُلاقَاتِ رَب کو چلے مُصطَفیٰؐ ہیں
نَہ جانا کسی نے نَہ جانے گا
کوئی مَقامِ مُعَلَّیٰ تیرا کملی والے
تو عالم تمہارا ہوا کملی والے
کہ تم ہو حبیبِ خدا کملی والے
تمہاری کتاب اور دِیں آخری ہے
کہ ہو خاتم الانبیاء کملی والے
سَحابِ کرَم اور مَقامِ اِجَابَت
مَقامِ دُعا ہے مَدِینے کی گَلیاں
بِشَارَت ہو، بَیمَار! بَڑھتے چلو تُم
کہ دَارو شِفا ہے مَدِینے کی گَلیاں
فَضل سے ہمیں اپنے پُہنچا دے یَا رَبّ
ہماری دُعا ہے مَدِینے کی گَلیاں
تو عالم تمہارا ہوا کملی والے
کہ تم ہو حبیبِ خدا کملی والے
تو عالم تمہارا ہوا کملی والے
کہ تم ہو حبیبِ خدا کملی والے
تمہاری کتاب اور دِیں آخری ہے
کہ ہو خاتم الانبیاء کملی والے
تمام انبیاء آپ کے مُقتَدی ہیں
اِمَامَت ہے تیرا مَرتَبَہ کملی والے
تو عالم تمہارا ہوا کملی والے
کہ تم ہو حبیبِ خدا کملی والے
تیری بَرَکَتِ نَقشِ پَا کملی والے
یہاں پَر ہے تیرا مَرتَبَہ کملی والے
تو عالم تمہارا ہوا کملی والے
کہ تم ہو حبیبِ خدا کملی والے
ادعم محطة الأناشيد
نحن لسنا مدعومين من مستثمرين كبار - فقط عدد قليل من المطورين المستقلين الذين أرادوا إنشاء منصة نظيفة وخالية من الإعلانات للأناشيد. تبرعاتك تساعد في إبقاء هذا المشروع حياً ونموه.