یا رجائی
اردو
حبیبِ حق جو کرم کے موتی لُٹا رہا ہے، وہ مصطفیٰ ہے
جو بخششوں کی رِدا بنا ہے، وہ مصطفیٰ ہے
یا رجائی
یا رجائی
آ گیا جس کا نہیں ہے کوئی ثانی، وہ رسول
روحِ فطرت پر ہے جس کی حکمرانی، وہ رسول
جس کا ہر تیور ہے حکمِ آسمانی، وہ رسول
موت کو جس نے بنایا زندگانی، وہ رسول
محفلِ سفاکی و وحشت کو برہم کر دیا
جس نے خون آشام تلواروں کو مرہم کر دیا
ہادیِ اکرم، افضلِ عالم، کعبۂِ اعظم، مرسلِ خاتم
یا رجائی
فقر کو جس کے تھی حاصل کج کلاہی، وہ رسول
گلہ بانوں کو عطا کی جس نے شاہی، وہ رسول
زندگی بھر جو رہا بن کر سپاہی، وہ رسول
جس کی ہر اک سانس قانونِ الٰہی، وہ رسول
جس نے قلبِ تیرگی سے نور پیدا کر دیا
جس کی جاں بخشی نے مردوں کو مسیحا کر دیا
رہبرِ اعظم، صاحِبِ کرم، شاہِ حرم، شفیعُ الامم
یا رجائی
واہ کیا کہنا ترا اے آخری پیغامبر
حشر تک طالع رہے گی تیرے جلوؤں کی سحر
تو نے ثابت کر دیا اے ہادیء نوعِ بشر
مرد یوں مہریں لگاتے ہیں جبینِ وقت پر
کروٹیں دنیا کی تیرا قصر ڈھا سکتی نہیں
آندھیاں تیرے چراغوں کو بجھا سکتی نہیں
نیرِ تاباں، گوہرِ افشاں
دلبرِ رحماں، جانِ جہاں
یا رجائی
ادعم محطة الأناشيد
نحن لسنا مدعومين من مستثمرين كبار - فقط عدد قليل من المطورين المستقلين الذين أرادوا إنشاء منصة نظيفة وخالية من الإعلانات للأناشيد. تبرعاتك تساعد في إبقاء هذا المشروع حياً ونموه.