یہ غازی یہ تیرے
اردو
نظر اللہ پہ رکھتا ہے مسلمانِ غیور
موت کیا شے ہے، فقط عالمِ معنی کا سفر
ان شہیدوں کی دیت اہلِ کلیسا سے نہ مانگ
قدر و قیمت میں ہے خوں جن کا حرم سے بڑھ کر
آہ! اے مردِ مسلماں! تجھے کیا یاد نہیں
حرفِ ’لَا تَدْعُ مَعَ اللّٰہِ اِلٰھاً آخَر‘
یہ غازی یہ تیرے پُر اَسرار بَندے، جنہیں تُو نے بخشا ہے ذَوقِ خُدائی
دو نیم ان کی ٹھوکر سے صحرا و دریا، سمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے رائی
یَا اِلٰہِی! یَا اِلٰہِی!
دو عالم سے کرتی ہے بیگانہ دل کو
عجب چیز ہے لذّتِ آشنائی
شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن
نہ مالِ غنیمت نہ کشور کشائی
یَا اِلٰہِی! یَا اِلٰہِی!
کیا تُو نے صحرا نشینوں کو یکتا
خَبَر میں، نَظَر میں، اَذانِ سَحَر میں
طَلَب جِس کی صَدِیوں سے تھی زِندگی کو
وہ سوز اس نے پایا انہی کے جگر میں
یَا اِلٰہِی! یَا اِلٰہِی!
کُشادِ دَرِ دِل سمجھتے ہیں اس کو
ہَلاکت نہیں موت ان کی نظر میں
دِلِ مَردِ مومن میں پھر زندہ کر دے
وہ بجلی کہ تھی نعرۂ ’لَا تَذَر‘ میں
عَزائِم کو سینوں میں بیدار کر دے
نِگاہِ مسلماں کو تلوار کر دے!
یَا اِلٰہِی! یَا اِلٰہِی!
یَا اِلٰہِی! یَا اِلٰہِی!
ادعم محطة الأناشيد
نحن لسنا مدعومين من مستثمرين كبار - فقط عدد قليل من المطورين المستقلين الذين أرادوا إنشاء منصة نظيفة وخالية من الإعلانات للأناشيد. تبرعاتك تساعد في إبقاء هذا المشروع حياً ونموه.