Nasheed Stationمحطة الأناشيد
home الصفحة الرئيسية
record_voice_over المنشدين
backup تحميل
محطة نشيد متاحة أيضًا على نظامي iOS, Android
App Store IconPlay Store Icon
سياسة الخصوصية | شروط الاستخدام
v2.4.2
search

یہ یقین خود کو بہرحال دلانا ہوگا

خالد اقبال تائب
play_arrow59 استماعaccess_timeمنذ 3 أشهر

اردو

یہ یقین خود کو بہرحال دلانا ہوگا

ہم مسافر ہیں یہاں سے ہمیں جانا ہوگا

ہم مسافر ہیں یہاں سے ہمیں جانا ہوگا

ہم مسافر ہیں یہاں سے ہمیں جانا ہوگا

ہم مسافر ہیں یہاں سے ہمیں جانا ہوگا

ہم مسافر ہیں یہاں سے ہمیں جانا ہوگا

یہ یقین خود کو بہرحال دلانا ہوگا

ہم مسافر ہیں یہاں سے ہمیں جانا ہوگا

ہم مسافر ہیں یہاں سے ہمیں جانا ہوگا

یہ وہ بستی ہے جو بستی ہے اجڑنے کے لیے

یہ وہ بستی ہے جو بستی ہے اجڑنے کے لیے

گھر کہیں اور ہمیں جا کر بسانا ہوگا

گھر کہیں اور ہمیں جا کر بسانا ہوگا

گھر کہیں اور ہمیں جا کر بسانا ہوگا

یہ وہ بستی ہے جو بستی ہے اجڑنے کے لیے

یہ وہ بستی ہے جو بستی ہے اجڑنے کے لیے

جو بستی ہے

اجڑنے کے لیے

گھر کہیں اور ہمیں جا کر بسانا

دوستو! یہ وہ ناقابل تردید حقائق ہیں

یہ وہ ناقابل تردید حقائق ہیں

کہ جس کا سامنا ہر ایک کو کرنا ہے

بلکہ یہاں کے زبان میں ہر ایک کو کرنا ہے

جس کا سامنا ہر ایک کو کرنا ہے

یہ وہ ناقابل تردید حقیقت ہے

کہ جس کا سامنا ہر ایک کو کرنا ہے

چاہے ابھی آنکھیں موند لے

چاہے اس پرندے کی طرح

کہ جو اپنا سر ڈال دیتا ہے

سوراخ کے اندر

اور سمجھتا ہے میں محفوظ ہو گیا دشمن سے

غالباً شتر مرغ

کہ سوراخ کر کے

اور سوراخ کے اندر اپنا سر ڈال دیتا ہے

اور سمجھتا ہے کہ میں دشمن سے محفوظ ہوں

حالانکہ پورا جسم باہر ہے

دشمن جب آئے گا

موت کا پنجہ جب آئے گا، اٹھا کر لے جائے گا

قضا

قضا کے سامنے بیکار ہوتے ہیں

حواس و ادراک

قضا کے سامنے بیکار ہوتے ہیں

حواس و ادراک

کھلی ہوتی ہیں گو آنکھیں مگر بینا نہیں ہوتیں

کھلی ہوتی ہیں گو آنکھیں

مگر بینا نہیں ہوتیں

یہ وہ بستی ہے

جو بستی ہے

اجڑنے کے لیے

گھر کہیں اور

ہمیں جا کر

بسانا

ہم مسافر ہیں یہاں سے ہمیں جانا ہوگا

دل بنے ایسا کہ ہم شوق سے جائیں

ورنہ دل بنے ایسا کہ ہم شوق سے جائیں

ورنہ دل نہ چاہے گا مگر جان سے جانا ہوگا

دل بنے ایسا کہ ہم شوق سے جائیں

ورنہ دل نہ چاہے گا مگر جان سے جانا ہوگا

اہل اللہ کی روحیں پھڑکتی ہیں

اہل اللہ کی روحیں پھڑکتی ہیں

اہل اللہ کی روحیں اللہ تعالیٰ سے شوقِ ملاقات میں پھڑکتی رہتی ہیں

جیسے کہ قید ہو گیا ہو کوئی پرندہ

اور وہ پنجرے میں پھڑپھڑاتا ہے

اسی طرح روحیں پھڑپھڑاتی ہیں

اللہ تعالیٰ سے ملاقات کے لیے

تو اللہ تعالیٰ بھی ان کی ملاقات کو پسند کرتا ہے

لیکن جو فاسق یا کافر

یا مشرک

جو اللہ تعالیٰ سے ملاقات کو پسند نہیں کرتا

اللہ تعالیٰ بھی ان کی ملاقات کو پسند نہیں فرماتے

ان کی روح اٹک جاتی ہے

یہاں روح نکلنا شروع ہوتی ہے

پیروں کے تلووں سے

روح نکلنا شروع ہوتی ہے

اور اس کے بعد آ کر ٹخنے میں اٹک جاتی ہے

اس کے بعد پنڈلیوں میں اٹک جاتی ہے

فرشتے مار مار کر نکالتے ہیں

پھر گھٹنوں میں، اسی طرح کمر میں، اسی طرح

سینے پہ اور حلق پہ اور اسی طرح

اتنی بے دردی سے روح نکالتے ہیں

اور اس طرح تکلیف میں

وہ جان دیتا ہے کہ

اگر ہم اس کا پتا چل جائے تو دنیا کے کسی چیز میں جینا نہ لگے

یہ ایک حقیقت ہے جس کا سامنا ہمیں کرنا ہے

ایک عزّت سے پوچھا کہ ہمارا دل نہیں چاہتا مرنے کے لیے

کیا بات ہے

اہل اللہ بہت جان فدا ہوتے ہیں

مرنے پہ مرتے ہیں

مرنے پہ مرتے ہیں

ہم جینے پہ مرتے ہیں، کیا فرق ہے؟

وہ موت پہ مرتے ہیں، ہم زندگی پہ مرتے ہیں

اس فرق کی وجہ کیا ہے؟

تو فرمایا میں ایک مثال سے تمہیں سمجھاتا ہوں

دیکھو تمہارے دو مکانات ہیں

ایک مکان کو تم نے خوب مزین کیا

خوب رنگ و روغن بھی کیا

خوب اچھی طرح ڈیکوریٹ بھی کیا

اچھی طرح اس میں باہر لان بھی بنائے

پودے بھی لگائے

اس میں چوکیدار بھی رکھے

اور تمام آسائش کی جو چیزیں ہیں وہ اس میں تم نے رکھیں

ایک گھر وہ ہے

اور ایک گھر تم نے بہت دور ویرانے میں بنایا

ویرانہ ویسے ہی

وحشت کی جگہ

اور اس کا خیال بھی نہیں کیا، رنگ و روغن بھی نہیں کیا

ویسے ہی چھوڑ دیا

اور اتنے دن تک چھوڑے رکھا کہ اس میں جھاڑ جھنکاڑ پیدا ہو گئے

اور سانپ بچھو پیدا ہو گئے

اور دیکھ کر وحشت آنے لگی

اس گھر کو دیکھ کر وحشت

اب بتاؤ کہ تم کس گھر میں رہو گے

کہنے لگے حضرت! تو

اسی گھر میں رہنے کو چاہے گا

جس کو میں نے خوب اچھی طرح بنایا

فرمایا دنیا کو تم نے

اپنے اعمال سے

اپنی محنتوں سے، اپنی کاوشوں سے

اس قدر مزین کر لیا ہے

کہ تمہارا دل یہی لگتا ہے

اور آخرت کو اپنی بد اعمالی سے

اتنا زیادہ ویران کر لیا ہے

کہ اس گھر میں جانے سے وحشت ہوتی ہے

ایک بزرگ سے پوچھا پھر کیا کریں؟

ایک بزرگ سے کسی نے پوچھا

کیا کریں کہ آخرت میں

دل لگنے لگے

اور جو ہے

وہاں جانے کو جی چاہنے لگے

فرمایا

کہ مال بھیج دو

صدقہ کیا کرو

تمہارا دل مرنے کو چاہنے لگے گا

تو پوچھا کیوں، وجہ کیا؟

فرمایا کہ انسان کا دل

اس کے مال کے ساتھ اٹکا ہوتا ہے

ابھی تمہارا مال یہاں ہے تو دل یہاں اٹکا ہوا ہے

مال وہاں چلا جائے گا، دل وہاں چلا جائے گا

انسان کا دل

اس کے مال کے ساتھ اٹکا ہوتا ہے

خوب صدقہ کیا کرو اللہ کے راستے میں

خوب خرچ کیا کرو، جتنا خرچ کرو گے

تمہارا وہیں پہ جانے کا جی چاہے گا

جہاں تمہارا مال ہوگا

اور حدیث کے رُو سے حدیث میں آتا ہے

لوگ کہتے ہیں میرا مال، میرا مال، میرا مال

مال کیا ہے؟

مال تو وہی ہے جو اس نے کھا کر ختم کر دیا

اور پہن کر پرانا کر دیا

باقی مال تو وارثوں کا مال ہے، میرا مال نہیں

وہ وارثوں کا مال ہے

بعد میں وارث لڑتے جھگڑتے بھی ہیں

ہمارا آپ کا مشاہدہ ہے روزانہ

آخرت کی تیاری کی

Segment 155 (552

فکر عطا فرما دیں

دل بنے

تاکہ ہم شوق سے جائیں

ورنہ

دل نہ چاہے گا

مگر جان سے جانا

ہوگا

بند ہوتے ہی

کھلیں گی

ہماری آنکھیں

بظاہر آنکھیں بند ہوتی ہیں

لیکن آنکھیں کھلنے کا وقت ہوتا ہے

بند ہوتے ہی

کھلیں گی

وہ ہماری آنکھیں

رنج و حسرت

کائن آنکھوں میں

فسانہ ہوگا

رنج و حسرت

کائن آنکھوں میں

فسانہ ہوگا

ہم مسافر ہیں

یہاں سے ہمیں جانا

ہوگا

دل اجڑنے

سے بچانا

ہے تو لیلہ

کے بجائے

دل اجڑنے

سے بچانا ہے

تو لیلہ

کے بجائے

اپنے دل کو غم

مولا سے سجانا

ہوگا

اپنے دل کو غم

مولا سے سجانا

ہوگا

جیسا میں نے پہلے بات کیا تھا کہ ہر آدمی کا لیلہ

الگ الگ ہے

مال

کسی کا لیلہ مال

اور کسی کی لیلہ وجاہت

کرسی

ہر آدمی کی لیلہ الگ الگ ہے

اور کسی کی حسین عورتیں

وہ خود بزارتے ہیں

خود اگر لیلہ کے عشقی گرفتار ہے

تو وہ اس کی لیلہ ہے

ونہ جاہ عزت

اپنے آپ کو بڑا کہلوانا

اور حشمت اور جاہ کی طلب

یہ ساری چیزیں اس کے لیے لیلہ کا کام کرتی ہیں

یعنی اللہ تعالیٰ سے وہ حجاب ہے

اور جو بھی اللہ تعالیٰ سے روح دے

وہی بتھ ہوتا ہے

وہی بتھ ہوتا ہے

دل نجرنے سے بچانا ہے

تو لیلہ کے بجائے

اپنے دل کو غمِ مولا سے سجانا ہوگا

مقتصمت کیجئے آخری شہر ہے کہ

با خدا

گر ہمیں پانا ہے خدا کو تائب

با خدا گر ہمیں پانا ہے خدا کو تائب

با خدا تک ہمیں ہر حال میں آنا ہوگا

با خدا تک ہمیں ہر حال میں آنا ہوگا

با خدا تک ہمیں ہر حال میں آنا ہوگا

favorite

ادعم محطة الأناشيد

نحن لسنا مدعومين من مستثمرين كبار - فقط عدد قليل من المطورين المستقلين الذين أرادوا إنشاء منصة نظيفة وخالية من الإعلانات للأناشيد. تبرعاتك تساعد في إبقاء هذا المشروع حياً ونموه.

  • یہ یقین خود کو بہرحال دلانا ہوگا
  • خالد اقبال تائب
  • المنشدين
  • الصفحة الرئيسية
متاح أيضًا بـ
English • বাংলা • اردو • Türkçe