اعتبار
فیضان ریاض
200 بار چلایا گیاایک سال پہلے
اردو
اعتبار بھی آ ہی جائے گا
ملو تو سہی، راستہ کوئی مل ہی جائے گا
چلو تو سہی، چلو تو سہی، اعتبار بھی آ ہی جائے گا آ ہی جائے گا
دھوپ میں کھڑا جل رہا ہوں میں، سایہ دو مجھے
یہ میرا جنوں، یہ میری جلن ہے میری سزا
میری یہ تھکن کہہ رہی ہے کیا؟ سنو تو سہی، سنو تو سہی
اعتبار بھی آ ہی جائے گا آ ہی جائے گا
کیا ہوا اگر زندگی ذرا الجھ سی گئی، سوچو تو ذرا
جنگلوں میں بھی راستے تو ہیں، ہمیں بھی کوئی مل ہی جائے گا
چلو تو سہی، چلو تو سہی، پیار ویار بھی ہو ہی جائے گا ہو ہی جائے گا
ملو تو سہی، راستہ کوئی مل ہی جائے گا
چلو تو سہی، چلو تو سہی، اعتبار بھی آ ہی جائے گا آ ہی جائے گا
نشید اسٹیشن کی حمایت کریں
ہم بڑے سرمایہ کاروں کی طرف سے فنڈ نہیں پاتے - صرف چند آزاد ڈویلپرز ہیں جو نشیدوں کے لیے ایک صاف، اشتہار سے پاک پلیٹ فارم بنانا چاہتے تھے۔ آپ کے عطیات اس پروجیکٹ کو زندہ اور بڑھنے میں مدد کرتے ہیں۔