سب کو سب نہیں ملتا
اردو
سہلا دو من کو، کیوں یہ روتا رہے
ڈھلے گی پھر یہ رات، جو ہوتا رہے
پر یہ من مایوس ہے بہت، ہنگامے میں گِرے
اس شور میں، اس بھیڑ میں اکیلا ہے من
اکیلا ہوں میں
ہاں، اکیلا ہے من پر مکمل ہے یہ، ادھورے ہو تم
ہاں، اکیلا ہے من پر مکمل ہے یہ، ادھورے ہو تم
بلکہ ہو ہی نہیں
جھوٹ کی زمین پر فریب کے یہ سارے گھر، اِن میں رہنے والے
تم، خُون سفید، دل پتھر
ذمّہ ہے یہ قدرت کا یا خطا تمہاری ہے؟
جو بھی ہے سبب تو ہے، پر سزا ہماری ہے
جس کو جو بھی ملتا ہے، بے سبب نہیں ملتا
مجھ سے بولے من میرا، "سب کو سب نہیں ملتا"
جس کو جو بھی ملتا ہے، بے سبب نہیں ملتا
مجھ سے بولے من میرا، "سب کو سب نہیں ملتا"
سب کو سب نہیں ملتا
نشید اسٹیشن کی حمایت کریں
ہم بڑے سرمایہ کاروں کی طرف سے فنڈ نہیں پاتے - صرف چند آزاد ڈویلپرز ہیں جو نشیدوں کے لیے ایک صاف، اشتہار سے پاک پلیٹ فارم بنانا چاہتے تھے۔ آپ کے عطیات اس پروجیکٹ کو زندہ اور بڑھنے میں مدد کرتے ہیں۔