طلع البدر علينا
اردو
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
اگر کھو گیا اک نشیمن تو کیا غم
مقاماتِ آہ و فغاں اور بھی ہیں
تو شاہیں ہے، پرواز ہے کام تیرا
ترے سامنے آسماں اور بھی ہیں
اسی روز و شب میں اُلجھ کر نہ رہ جا
کہ تیرے زمان و مکاں اور بھی ہیں
وَجَبَ الشُّكْرُ عَلَيْنَا
مَا دَعَا لِلّٰهِ دَاعِ
ایسا بدلا ہے سماں
کانٹے بھی اب پھول ہیں
آپ کیا پہنچے مدینہ
آئی ہے اب جاں میں جان
طَلَعَ الْبَدْرُ عَلَيْنَا
مِنْ ثَنِيَّاتِ الْوَدَاعِ
وَجَبَ الشُّكْرُ عَلَيْنَا
مَا دَعَا لِلّٰهِ دَاعِ
ساتھ ہیں صدیقِ اکبر
عشقِ سچائی کا پیکر
عشق ہے ایسا بے مثال
خوش ہے جس سے ذوالجلال
طَلَعَ الْبَدْرُ عَلَيْنَا
مِنْ ثَنِيَّاتِ الْوَدَاعِ
أَيُّهَا الْمَبْعُوثُ فِينَا
جِئْتَ بِالْأَمْرِ الْمُطَاعِ
یہ کہا کہ اے علی
تم امانت کے امیں
لیٹ جا بستر پہ میرے
آج تیرا امتحاں
طَلَعَ الْبَدْرُ عَلَيْنَا
مِنْ ثَنِيَّاتِ الْوَدَاعِ
جِئْتَ شَرَّفْتَ الْمَدِينَةَ
مَرْحَبًا يَا خَيْرَ دَاعِ
یہ پسینہ آپ کا
جسے عنبر شرم سار
جلوۂ جاناں کہوں میں
یا جمالِ مصطفیٰ
طَلَعَ الْبَدْرُ عَلَيْنَا
مِنْ ثَنِيَّاتِ الْوَدَاعِ
وَجَبَ الشُّكْرُ عَلَيْنَا
مَا دَعَا لِلّٰهِ دَاعِ
حکمِ ربی سے یہ ہجرت
کیا کہوں میں اس کی عظمت
ایسا سکھلایا قرینہ
بڑھ گئی شانِ مدینہ
طَلَعَ الْبَدْرُ عَلَيْنَا
مِنْ ثَنِيَّاتِ الْوَدَاعِ
وَجَبَ الشُّكْرُ عَلَيْنَا
مَا دَعَا لِلّٰهِ دَاعِ
نشید اسٹیشن کی حمایت کریں
ہم بڑے سرمایہ کاروں کی طرف سے فنڈ نہیں پاتے - صرف چند آزاد ڈویلپرز ہیں جو نشیدوں کے لیے ایک صاف، اشتہار سے پاک پلیٹ فارم بنانا چاہتے تھے۔ آپ کے عطیات اس پروجیکٹ کو زندہ اور بڑھنے میں مدد کرتے ہیں۔