ہم اہل جنون
اردو
تاریخ کا جب بھی رخ بدلا، بدلا ہے ہمیں دیوانوں نے
اسلام کی شمعیں روشن کیں جل جل کے ہمیں پروانوں نے
ہم اہلِ جنوں کو ہر رخ سے سو بار جہاں پرکھا ہے
ماضی میں جو طوفان یورپ سے منڈلائے یہاں تک آیا تھا
ہم نے ہی اسے ٹھکرایا تھا، ہم نے ہی اسے للکارا تھا
مقتل بھی ہمارا گہوارہ، زنداں بھی ہمارا مسکن ہے
ہم راہِ وفا میں سر دیں، یہ سارے جہاں پر روشن ہے
ہم کھیل سمجھ کر لڑتے ہیں طوفان کی بھیانک موجوں سے
کیا اہلِ جنوں دب جائیں گے ان اہلِ جفا کی موجوں سے
ہم اہلِ جنوں کو ہر رخ سے سو بار جہاں پرکھا ہے
سینوں میں وہ جذبے رکھتے ہیں جو آگ بھی ہے اور شبنم بھی
ہم غنچہ صفت بھی رہتے ہیں، رکھتے ہیں مزاج برہم بھی
ہم اہلِ جنوں کو ہر رخ سے سو بار جہاں پرکھا ہے
سوچا ہے کفیل اب کچھ بھی ہو، ہر حال میں اپنا حق لیں گے
عزت سے جیے تو جی لیں گے یا جامِ شہادت پی لیں گے
پھر عشق و وفا کی راہوں میں ایک شورِ سلاسل برپا ہے
سینوں میں وفا کے بندوں کے پھر شوقِ شہادت اٹھا ہے
ہم اہلِ جنوں کو ہر رخ سے سو بار جہاں پرکھا ہے
نشید اسٹیشن کی حمایت کریں
ہم بڑے سرمایہ کاروں کی طرف سے فنڈ نہیں پاتے - صرف چند آزاد ڈویلپرز ہیں جو نشیدوں کے لیے ایک صاف، اشتہار سے پاک پلیٹ فارم بنانا چاہتے تھے۔ آپ کے عطیات اس پروجیکٹ کو زندہ اور بڑھنے میں مدد کرتے ہیں۔